پیس پارٹی نے ایودھیا فیصلے کے خلاف آج سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی۔ پارٹی نے اپنی درخواست میں استدلال کیا ہے کہ 1949 تک اس جگہ پر مسلمانوں کا حق تھا۔

نئی دہلی : ایودھیا فیصلے پر پیس پارٹی نے جمعہ کو سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ سپریم کورٹ کے آئین بنچ کے 9 نومبر کے فیصلے پر نظرثانی  مانگ کی۔ پیس پارٹی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ 1949 تک متنازعہ جگہ  پر مسلمانوں کا حق تھا۔ اس سے قبل جمعیت علمائے ہند کی جانب سے بھی نظرثانی کی درخواست دائر کی جاچکی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی نظرثانی درخواست داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پیس پارٹی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سن 1949 تک اس متنازعہ جگہ  پر مسلمانوں کا  حق تھا ۔ مرکزی گنبد کے نیچے 1949 تک نماز ادا  کی گئیں اور گنبد کے نیچے کوئی بت نہیں تھا۔ یہاں تک کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ میں بھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مندر کو منہدم کیا گیا تھا اور مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ 1885 میں  ہندوؤں نے بیرونی جگہ  میں رام چبوترے پر رام کی پوجا کرتے تھے  ، اندرونی جگہ  مسلمانوں کے پاس تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here