ایودھیا کیس میں دائر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے لئے سپریم کورٹ کا آئینی بنچ تشکیل دیا گیا ہے۔ پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ بند چیمبر میں 18 درخواستوں کی سماعت کررہے ہیں ۔

نئی دہلی : ایودھیا کیس میں دائر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے لئے سپریم کورٹ کا آئینی بنچ تشکیل دیا گیا ہے۔ پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ بند چیمبر میں 18 درخواستوں کی سماعت کررہا ہے۔ اس دوران فیصلہ کیا جائے گا کہ ان درخواستوں کی سماعت کھلی عدالت میں ہوگی یا نہیں۔

نیز ، درخواستوں کی میرٹ پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس سے قبل نرموہی اکھاڑا نے بھی نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نرموہی اکھاڑا نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ان کے فیصلے کے ایک مہینے کے بعد بھی رام مندر ٹرسٹ میں ان کے کردار کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ عدالت کو اس معاملے میں کوئی واضح حکم دینا چاہئے۔

یہ ہے آئینی بنچ  

چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کے ساتھ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن ، جسٹس ایس عبدالنظیر اور سنجیو کھنہ کے ساتھ سماعت ہوگی۔ جسٹس سنجیو کھنہ اس بینچ میں نیا چہرہ ہوں گے۔ پہلے بینچ کی سربراہی کرنے والے اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی ریٹائر ہوگئے ہیں۔ سنجیو کھنہ نے ان کی جگہ لی ہے۔ ایودھیا اراضی تنازعہ کیس میں عدالت عظمی نے 9 نومبر کو فیصلہ سنایا۔ عدالت نے متنازعہ اراضی کو رام مندر بنانے کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here