پہلے بھی دے چکے ہیں ایسا بیان
روزآنہ ہو رہی ہے سنوائی
چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر سے ایک دن بھی زیادہ نہیں دیا جائے گا

نئی دہلی : ایودھیا معاملے کی سنوائی کے دوران چیف جسٹس نے ایک پھر کہا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر تک سنوائی ختم ہوجانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چا ر ہفتے میں فیصلہ دیا گیا تو یہ ایک چمتکار کی طرح ہوگا ،لیکن اگر سنوائی وقت پر مکمل نہیں ہوئی تو فیصلہ ممکن نہیں ہو سکے گا ۔ کسی بھی فریق کو ایک دن بھی زیادہ نہیں دیا جائے گا ،اسی لئے تمام فریق وقت مقرر پر سنوائی مکمل کریں ۔
میناکشی اروڑا نے کہا کہ وہ آج ختم کر دیں گی ،ہندو فریق نے کہا کہ جواب دینے کے لئے تین سے چار دن کا وقت چا ہیے ۔ راجیو دھون سے کورٹ نے پوچھا کہ سوٹ نمبر چار پر بحث کرنے کے لئے دو دن کافی ہیں ؟دھون نے کہا کہ ہم ہفتہ کے روز بھی بحث کر سکتے ہیں ۔

چیف جسٹس آف انڈیا

غور طلب ہے کہ اس سے پہلے بھی چیف جسٹس نے اس معاملے کی سنوائی کو اٹھارہ اکتوبر تک مکمل کرنے کی بات کہی تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ رام جنم بھومی معاملہ کی سنوائی اٹھارہ اکتوبر تک پوری کر لیں گے ۔ اس کے لئے ہم سبھی کو ایک ساتھ کو شش کر نا چاہیے ،اس کے ججوں کو فیصلہ لکھنے کے لئے تقریباچارہفتہ کا وقت ملے گا ’’ سپریم کورٹ ‘‘ نے کہا کہ اگر تما م فریق اس معاملہ کو ثالثی کے ذریعہ حل کر نا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں اور طے کر کے عدالت کو بتا دیں ‘ ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here