ممبئی : مہاراشٹرا میں فڈنویس حکومت کے استعفیٰ کے بعد ناقدین کے نشانے پر آئے امت شاہ نے جواب دیا کہ ان کی پارٹی نے اجیت پوار پر کیوں بھروسہ کیا۔ آپ کو بتا دیں  کہ مہاراشٹر بی جے پی کے بہت سے رہنماؤں نے بھی پارٹی سے اس معاملے پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔

ایک نیوز چینل سے گفتگو کے دوران جب یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اجیت پوار کو این سی پی کی قانون ساز پارٹی کا قائد منتخب کیا گیا تھا ۔ ان کی پارٹی نے انہیں حکومت بنانے کا اختیار دیا تھا۔ گورنر نے ان سے حکومت سازی کے بارے میں بھی بات کی۔

شاہ نے کہا کہ جب این سی پی نے پہلی بار حکومت بنانے میں اپنی نااہلی کا اظہار کیا تو اس خط پر بھی اجیت پوار نے دستخط کیے تھے۔ اب ہمارے پاس جو خط موصول ہوا ہے اس پر بھی اجیت پوار نے دستخط کیے تھے۔

ہمارا اور  شیوسینا کا اتحاد ہوا تھا ۔ دونوں پارٹیوں  کو ایک دوسرے کے ووٹ ملے۔ ہمارے اتحاد کو اکثریت ملی۔ سی ایم دیویندر جی کو یہ مینڈیٹ ملا۔ بہت سی ریلیوں میں ہم نے کہا تھا کہ سی ایم دیویندر جی  ہی ہوں گے۔ کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ڈھائی سالوں تک وزیر اعلی کے عہدے کے بارے میں کوئی بات  نہیں ہوئی تھی۔ ہر ریلی میں ہم نے دیویندر فڈنویس کو بطور وزیراعلیٰ بتایا  تھا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here