اس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیں
ناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیں

مجاز کے اس شعر میں ہمیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے باحوصلہ اورعزم ویقین سے بھرپور نوجوانوں کی منزل نظر آتی ہے ،مجاز کی مشہور نظم نذرِ علی گڑھ کا یہ شعر ہمیں سرزمین ِ علی گڑھ سے علم وادب اورتہذیب وتمدن سے آراستہ ہوکرآسمان کی بلندیوں تک جانے کی دعوت دیتا ہے ۔ نذرِ علی گڑھ کے کچھ اشعار ہم ترانہَ علی گڑھ میں گنگناتے ہیں وہ اشعار بھی علی گڑھ کی محبتوں ،سرگرمیوں اورعظمتوں کی داستاں بیان کرتے ہیں ۔

تحریر عبداسمیع ندوی علیگ

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مسلمانان ِہند کاڈھڑکتا ہوا دل ہے خلوص ومحبت کاتاج محل،اخلاق وکردار کاقلعہ اورسرسید کے خوابوں کی تعبیر ہے یہ ہمیں عزمِ جواں اورہرلمحہ دواں کادرس دیتاہے ۔ یہ تہذیب وتمدن کا ایساقلعہ ہے جس کی تہذیب وثقافت روایات واقدار،مہمان نوازی،آپسی خلوص ومحبت کیلئے پوری دنیا میں جانا جاتاہے جس کامشاہدہ ہم 17اکتوبر کے موقع پراپنی آنکھوں سے کرتے ہیں اس ادارہ سے اڑنے والی خوشبو پوری دنیا کومعطر کرتی ہے ۔
اس ادارہ کاقیام سرسید علیہ الرحمہ نے ان حالات میں کیاتھا جب ملک وقوم تاریخ کے مشکل ترین دورسے گزررہے تھے ،ٹیپو سلطان،سراج الدولہ،بہادرشاہ ظفر سبھی کوانگریزوں نے اپنے قبضہ میں کرکے ملک پرقابض ہوگئے تھے اورملک وقوم کواپنی زیادتیوں اورظلم وستم کانشانہ بنارہے تھے اس وقت سرسید نے ملک وقوم کی فلاح وبہبود اورترقی کیلئے مدرسۃ العلوم کی بنیاد ڈالی جو ترقی کرکے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گئی اورجہاں سے آج ہم تعلیم وتربیت حاصل کررہے ہیں ۔ علی گڑھ کے فرزندان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اوریہاں کی تعلیم وتربیت اورتہذیب وثقافت کیوجہ سے ہرجگہ نمایاں مقام بنائے ہوئے ہیں ۔ علامہ اقبال نے طلباء علی گڑھ کومخاطب کرتے ہوئے کہاتھا

اوروں کاہے پیام اور میرا پیام اور ہے
عشق کے دردمند کا طرزِ کلام اور ہے
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے

علامہ اقبال کے اس پیغام کوفرزندانِ علی گڑھ نے قبول کیاہے اورہرموقع پرقوم وملت اورملک کے درد کا درماں اورغمخوار بن کر دوسرے اداروں کے طلباء سے الگ بہتر اوراچھا پیغام پیش کیا ہے یہاں کے فارغین اورطلباء میں تقریر وتحریر کاجوملکہ نظرآتاہے ہندوستان کی کوئی دیگر یونیورسٹی یا ادارہ اسکی مثال نہیں پیش کرسکا ہم نے ملکوں کی قیادت کی ہے،فضلائے علی گڑھ نے شہرت وعظمت کی بلندیوں تک پہونچ کر اپنے نمایاں کاموں اورنیک نامیوں کی خوشبو سے فضاءوں کومعطر کیاہے جس کی مہک چاروں طرف پھیلی ہے اورآج بھی پھیل رہی ہے اس بزم ِ علی گڑھ کے چراغ حکومت واقتدار کی معراج تک پہونچے ۔ ذاکر حسین ،حامدانصاری،ایوب خاں ،لیاقت خاں صدورِ پاکستان وغیرہ اسکی مثال ہیں اس کے علاوہ فن وادب علوم وسائنس ،علم اورکھیل کے میدانوں تک درخشاں شمس وقمربن کر افلاک کوروشن کرتے رہے ہیں ۔

علی گڑھ کی تعلیم وتربیت اورتہذیب وثقافت نے محمدعلی کومولانا محمدعلی جوہر بنادیا ،ذاکرحسین صدرجمہوریہ ڈاکٹر ذاکرحسین بنادیا ،اسی علی گڑھ سے ایسے ایسے افراد پیداہوئے جنہوں نے ملک کوآزادی دلائی ،ملکوں کی قیادت کی،اداروں کی سرپرستی کی اورخود بھی ادارے قائم کئے ۔ یہ ادارہ آج بھی قیادت وسیادت ملک وقوم کودے رہاہے محمدعلی جوہر،ذاکرحسین ،اعظم خاں ،عارف محمدخاں ،محمدادیب وغیرہ یونین کے پلیٹ فارم سے سیاست وقیادت سیکھ کرملک وقوم کی سیاست میں گئے اورکامیابی حاصل کی ۔ آج ایک بارپھرملک وقوم کواچھے قائدین کی ضرورت ہے اورآج یہ موقع آیاہے توآئیے مجاز کے بقول

آؤ ملکر انقلابِ تازہ تر پیدا کریں
دہر پراس طرح چھاجائیں کہ سب دیکھاکریں

تحریر:عبدالسمیع ندوی علیگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here