وہ میرے گاوں کا تھا ۔ علاقے میں وہ عالم پلیر کے نام سے مشہور تھا ہم گاوں والے اسے بے حد عزیز رکھتے تھے۔ وہ جہاں بھی کھیلنے جاتا تھا اسے دیکھنے کے لئے ہمارے گاوں سے سائکلوں کا قافلہ روانہ ہو جاتا ۔اس نے کبھی گاوں والوں کو مایوس نہیں کیا تھا وہ ہر پیچ کا مرد میدان تھا ۔وہ بیک کی پوزیشن سے کھیلتا گول پوسٹ کی نگہبانی کی پوری ذمہ د اری لیتے ہوے اپنے تمام ساتھیوں کامخالف ٹیم پر چڑہتے رہنے کی ہدایت کرتا ۔پھر کسی ساعت ایسا ہوتا کہ مخالف ٹیم کے کھلاڑی گیند لے کر اس کی طرف چڑھ دوڑتے تا لیوں کی گرگراہٹ تیز ہو جاتی ہم گاوں والو ںکا دل بیٹھنے لگتا میں بھی ممکنہ صدمے کی تاب نا لا کر آنکھیں موند لیتا کہ اچانک اپنے آس پاس لوگوں کو فرت مسرت سے اچھلتے کودتے ہوے پاتا عالم پلیر حملے کو پسپا کر چکا ہوتا اور وہ ایسا کرنے میںاکثر کامیاب ہو جاتا ۔عالم پلیر نہ صرف اپنی گول پوسٹ کا نگہبان تھا بلکہ اپنے شیدایوں کی امنگوں اور ارمانوں کا محافظ بھی تھا ۔عالم پلیر کا دن جتنا اجلا تھا وہی اس کی رات اتنی ہی کالی بتائی جاتی ہیں میں سوچتا بھلا دن کا راہرو رات کا سارق کیسے ہو سکتا ہے۔

 بچپن کی سرحدوں کو عبور کر میں لڑکپن کی حدود میں داخل ہو چکا تھا۔ عالم کے فتوحات اور شہرت اپنی بلندیوں کو چھو رہے تھے تاہم میں کتابوں کے بوجھ تلے اتنا دب گیا تھا کہ اس کے سبھی میچوں کو دیکھنے جا نہیں پاتا ۔شام گئے جب دوست کھیل کے میدان سے واپس آتے تو ان کے ذریعے جیت کی آنکھوں دیکھی روداد سنتا اور ہمارے قدم عقیدت کا اظہار کرنے اس کے گھر کی طرف چل پڑتے 18مارچ سن 87 اس دن بھی جیت کی ایک ایسی ہی شام تھی ۔دوست کے ہمراہ عقیدت کا اظہار کرنے پھول لیے میں اس کے گھر کے سا منے کھڑاتھا کو اس کی چھت سے آنگن میں اترتے وقت ایک چاند دیکھا ۔آسمان میں چاند نظر آیا دوست نے کہا یہ دوج کا چاند ہے میں وہیں کھڑا اس دوج کے چاند کو نہارنے لگا ۔شام گہرا گئی چاند اپنا مختصر سفر ختم کر وہیں کہیں چھپ گیا تھا ،دوست مجھے اکیلا کھڑا چھوڑ جا چکا تھا پوری رات اور پورا دن ابھی میرے سامنے پڑا تھا ۔ اب شام چاہے کیسی بھی ہو اس کے چھت پر اگتے چاند کو نہارنا میرا معمول بن گیا۔چاند بھی وقت کے ساتھ گولا رہا تھا چھت پر ٹھہرنے کا وقفہ بڑھ گیا تھا اب ہلکی ہلکی چاندنی چھٹکنے لگی تھی ۔میں تیرا انتظار کروںگا چودہویں کی رات تک اور پھر پندرہویں کی شب تجھے میرے آنگن میں اترنا ہوگا ۔

 عالم اپنے کھیل کے بنا پر بہار ملٹری پولس میں سب انسپکٹر کے لیے چن لیا گیا ۔ اب وہ صوبائی ٹیم کا ممبر تھا گاوں اور علاقے اس کے کھیل سے محروم ہو چکے تھے تاہم اس کے کھیل کی نقش اس کی فتوحات کی یا دیں سب کے دلوں میں اس طرح قائم و دائم تھیں ۔ وقت گزرتا گیا اس کی عزت وعظمت کے مقام کو پہنچ رہی تھی شہرت صوبے کی سرحدوں کو لانگھنے والی تھی کہ اس نے کھیل کو الوداع کہہ دیا ۔ بہار ملٹری پو لس کی نوکری چھوڑ دی مشرق وسطی چلا گیا وہاں اس کی زندگی بدل گئی ۔آہستہ آہستہ چاند مغرب سے مشرق کی طرف بڑھ رہا تھا میں اپنے آنکھوں سے اس کے حسن کو پینے میں محو تھا کہ ابا کا ہاتھ میرے شانوں پر پڑا میٹرک کا رزلٹ مبارک ہو ۔آپ کو مزید تعلیم کے لئے شہر جانا ہے ، میری پلکیں جھپکیں حسن چھلکا اور میں دم تشنگی لیے شہر آ گیا ۔شہر میں جس جگہ میں ٹھہرا وہاںنہ دن تھا نہ رات تھی بس میرے ہاتھ میں بلب کا سوچ تھا ۔یہاں آ کر زندگی میں نہ صبح باقی رہی نہ شام اور نا ہی کسی چھت پر کوئی چاند ہاں باہر بے شمار بلب تھے مگر پھر بھی میں کالی رات میں شہر کی زند گی سے گھبرا کر گاوں بھاگ آیا ۔گاوں میں یکلخت خاموشی تھی ۔پوری آبادی سیاہ دبیز چادر اوڑھے سو رہی تھی ،میرے گھر میں روشنی تھی دادی جاگ رہی تھی ”دادی رات اتنی کالی کیو ں ہے ؟“ بابو اندھیریا ہے شہر سے جے آئل بارا اے سے تہرا اتنا انہار لا گت با ۔ میں کھلے آسمان میں آ گیا آسمان پر بے شمارر تارے چمک رہے تھے لیکن ان کی چمک گاوں کی اس سیاہ رات کو اور گہرا رہی تھی گاوں کی اس شہری مناسبت سے میں ڈر گیا:: دادی چاند کب نکلے گا بابو آجو کے دن ،میں انتظار کرنے لگا وہی اسی جگہ جہاں میں چاند دیکھا کرتا تھا ۔ ہفتہ اپنی مدت سے تجاوز کر گیا چاند نہیں نکلا ۔اب شہر اور گاوں دونوں میرے لیے برابر تھے میں شہر لوٹ آیا جہاں بجلی کے پیلے بلب میرے رفیق تھے میری ضرورت تھے۔ضرورتیں عادت بن گئی میں چاند کو بھول گیا ۔

  سابقہ دنوں سے دل اچاٹ ہو جانے کے بعد عالم پلیر کی تمام تر توجہ اپنی اکلوتی بیٹی کی صحیح تعلیم و تر بیت اور اس کے مستقبل پر مر کوز ہو گئی ۔ امام ابو حنیفہ کی حقیقت جاننے کے بعد اسے بھی اپنی نیک با قیات کی امیدیں بیٹی کی ذات سے وابستہ ہو گئیں تھیں۔ اس نے ایک دوست کے معرفت بیٹی کو مشرقی صوبے کے ایک مدرسے میں میں بھیجوا دیا ۔اب وہ گاوں سے ہزاروں مل دور سمندر کے کنارے ایک چھو ٹے سے شہر میں قرآن و حدیث پڑ رہی تھی ۔ادھر چاند کے ساحلی شہر کے اوپر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا سمندر کے طول و طویل کنارے لق و دق صحرا اس کی قدردانی کر رہے تھے۔

 چاند مغرب سے نکلتا ہے یا مشرق سے ہم دو دوست آپس میں بیٹھے بحث کر رہے تھے میرا کہنا تھا چاند مغرب سے نکلتا ہے جہاں سورج ڈوبتا ہے وہیں سے چاند نکلتا ہے ۔دوست کہہ رہا تھا مشرق سے نکلتا ہے دن کو جہاں سے سورج اگتا ہے رات کو وہی سے چاند نکلتا ہے نہیں میں نہیں مان سکتا میں نے چاند کو مغرب سے نکلتے دیکھا ہے اور تم نے شائد دوج کا ماہ ناتمام دیکھا ہو گا چودہویں کا چمکتا ہوا ماہ کل نہیں ۔میں گڑبڑا گیا سوچ میں پڑ گیا ہاں شائد جہاں سے چاند نکلتا ہے وہاں چمکتا ہے نہیں میرے چہرے پر اداسی چھا گئی تھی ۔

 عالم کا دوست اس کی بیٹی کا لوکل گارجین تھا دونوں بیٹیاں آپس میں گہری دوست تھیں۔ اس طرح عالم کی بیٹی کے لیے اس کا گھر اپنے گھر کے ہی مانند تھا ۔تیرہویں کی رات تھی عالم کا دوست کا لڑ کا بنگلور سے انجنیرنگ کی پڑھائی مکمل کر کے گھر لوٹا اس خوشی میں ایک ضیافت کا انتظام کیا گیا تھا۔ عالم کی بیٹی اپنی پوری آرائیوں کے ساتھ وہاں موجود تھی آفتاب گھر میں داخل ہوا چاند کی چاندنی میں نہا گیا تھا تحیر کی انتہاوں میں ڈوب گیا تھا ٹوٹتے سانسوں کے ساتھ بس اتنا بول سکا چاند اور گھر میں باہر تیرہویں کا چاند ہر سو ضیا باری کر رہا تھا رات ہو چکی تھی مہمان جا چکے تھے چاند کی چاندنی اپنی پوری شباب پر تھی آفتاب درائی شب کی دعا مانگ رہا تھا چاند اتر آیا ہے سورج آسمانوں پر چڑھ رہا تھا اس کی کرنوں سے کلیا ں کھل رہی تھی اس پر بھنورے منڈرا رہے ہیںپرندے چہچاتے ہوے سفر کی تیاری کر رہے ہیں آفتاب دھڑکتے دل کے ساتھ ماہتاب کی طرف بڑ ھا ہے ہیلو میم آپ کا نام کیا ہے اس نے نظریں اٹھائی آفتاب کو دیکھا سوئی آنکھوں کی خواب کی تعبیر کو جا گتی آنکھوں نے اپنی پلکوں میں چھپا لیا جھجکتے ہوے بولی تارا۔۔۔۔ اعتراف محبت کے لیے اظہار محبت ضروری نہیں۔

 چودہویں کی رات آفتاب کی تاب پورے طور پر ماہ پروا ہو گئی ماہ تاب جوان ہو گئی اس کا حسن اپنی انتہاوں کو جا پہنچا ۔آفتاب ماہ کی تاب سے بے تاب ہو گیا پر کسی نے دیکھا یا نہ دیکھا کوئی سمجھا یا نہ سمجھا آفتاب ماہ تاب کی طرف جھک گیا ایک پہر کے لیے اندھیرا چھا گیا ہر روز آفتاب ماہ تاب کی طرف جھکتا گیا اندھیاروں کی پہریں بڑھتی گئیں۔

ایک دن۔۔۔۔۔ آفتاب نے ماہتاب کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔۔۔میم ۔۔اوں۔۔ اس چاند کو میرے سینے کی اوٹ میں چھپ جانے دو

 اس کی چاندنی کو میرے بازوں کے حصارمیں قید ہو جانے دو میں دوبارہ تیری پھیلتی حسن کی جو لانیوں کی تاب نہ لا سکوںگا ۔۔۔۔ چکور منہ کھولے چاند کے آس میں اس کی طرف نظریں لگاے ہوے تھا مگر چاند اس کے پہلے زمین پر ٹپکتا وہیں اوپر اچک لیا گیا ۔۔۔ میم ۔۔ہوں۔۔آفتاب۔۔۔آں ۔۔۔ میم ۔۔۔ آفتاب دونوں کی تیز تیز گرم سانس ایک دوسرے کے چہرے سے ٹکڑا ٹکڑا کر ان کے جسموں کو گرما رہی تھی ۔شدت گرمی سے ان کمے ہونٹ پھڑکنے لگے پھر پھڑکتے ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے رات تھم گئی چاند اپنے سفر پر چل پڑاچلتے چلتے تھک گیا اور تھک کر۔۔۔۔ ادھر پورے چاند کی چاندنی آفتاب کی ہونٹوں میں جذب ہوتی رہی بے چارہ چکور پتھر کی اوٹ سے ٹیک لگاے چاند کو تکتا رہ گیا ۔۔۔۔پھر چاند ڈھلکا آفتاب کے ہونٹوں سے تھوڑا سا حسن چھلکا اور چھلک کر اس کے سینے پر ڈھلک گیا ۔۔چاند اپنا سفر ختم کر چکا تھا رات چل پڑی تھی آفتاب نے چھلکتے اور ڈھلکتے چاند کو ا اپنے ہاتھوں سے سنبھالا اور پھر اس کے بازوں چاند کا ہالہ بن گئے۔ رات اترنے لگی تھی ۔انہریا چڑھنے لگا تھا ۔۔۔۔آفتاب ماہتاب پر پوری طرح جھک گیا تھا آخری پہر تو کل ہی ختم ہو چکی تھی آج کی رات تو پورے پہر کی رات تھی چکور کے لیے اماوس کی رات۔ لیکن آفتاب ماہتاب کے لیے یہ کوئی اور رات ہی تھی کون سی رات پتہ نہیں اس کا کسی نے نام ہی نہ دیا ۔۔۔۔ دوج کا چاند ۔۔۔ کوئی ضروری نہیں ۔۔۔ ویسے بھی چکور کو کسی دوج کی چاند کی تمنا نہیں اس کی انتظار کی گھڑیاں تو بہت سیانی ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔ میم آج دوج کا دن ہے کل تیج ۔۔۔ہاں۔۔۔پرسوں تجھے میرے آنگن میں اترنا ہو گا ۔۔۔۔۔ہوں ۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔ہوں

  عالم کی بیٹی اپنی ماں سے کہہ رہی ہے پڑھائی پوری ہونے بعد میں اپنے مدرسے میں پڑھانے لگوںگی ما ں کا سینا فخر سے پھول گیا وہ بیٹی پر نثار ہو نے لگی ۔۔۔۔امی ۔۔۔ہوںوہ خاموش ہو گئی بیٹی تم کچھ کہہ رہی تھی ہاں امی ۔۔۔تو کہو نا امی ۔۔۔۔وہ پھر بول نہ سکی ماں نے بیٹی کے دلوں کا راز جان لیا اس پر قربان ہوتے ہوے بولی بتاو بیٹی کیا بات ہے امی میں افتاب سے شادی کروںگی بیٹی کا انتخاب لا جواب تھا ماں خوش ہو گئی اچھا بیٹی آج رات میں تیرے بابا سے بات کروںگی۔۔۔

  عالم بستر پر کڑوٹیں بدل رہا تھا ۔ تم کچھ اداس اور بے چین لگ رہے ہو ،دیکھو تو بیٹی کا انتخاب کتنا اچھا ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ۔نہیں تارے کی ماں میں اپنی بیٹی کو اپنے الگ نہیں کر سکتا ۔۔۔دیکھو لڑکیاں پراے گھر کی ہوتی ہیں انہیں ایک نا ایک دن اپنے سے الگ کرنا پڑتا ہے ۔سنو جس کو بیٹا نہیں ہوتا اس کے لیے بیٹی ہی بیٹا ہوتی ہے میں اتنی دور اس کا بیاہ نہیں کر سکتا ۔دیکھو لڑکا اچھا ہے تمہارے دوست کا لڑکا ہے بھلا اتنا اچھا لڑکا کہاں ملےگا اور سب سے بڑھ کر تارااس سے محبت کرتی ہے ۔

   عالم بھڑک اٹھا تو کیا تم اس گھر دوار کھیتی باری سب چھوڑ چھاڑ کر اپنے گاوں سے ہزاروں میل دور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بیٹی داماد کے گھر پر رہنا چاہتی ہو نہیں جی نہیں تو پھر تمھیں سمجھنا ہوگا تارے کو سمجھانا ہوگا ۔

رات میں خواب دیکھ رہا تھا عالم پلیر ایک بار پھر میدان میں اتر آیا ہے اس بار اس نے اپنی پوزیشن بدل لی ہے وہ فارورڈ سے کھیل رہا ہے گول بچانے کے لیے نہیں گول مارنے کے لیے وہ دھڑا دھڑ گول مار رہا ہے میرا دل صدمے سے بیٹھا جا رہا ہے وہ جیت گیا ہے جیت کی خوشی منا رہا ہے ایسے جیسے یہ اس کی زندگی کی پہلی جیت ہو۔۔

ادھر عالم کی بیٹی اپنی امی سے پوچھ رہی ہے کہ امی کیوں آفتاب میں کیا کمی ہے ۔بیٹی کمی تو کچھ نہیں ہے بس تیرے بابا کہہ رہے تھے وہ سگریٹ پیتا ہے یہ کوئی عیب نہیں ہے ۔بیٹی عیب تو ہے میں نے سنا ہے کہ ہر نشہ دوسرے نشہ کو جنم دیتا ہے ۔بیٹی آفتاب کا خیال دل سے نکال دو ۔۔نہیں امی نیہں یہ کوئی وجہ نہیں ہوئی یہ کوئی دلیل نہیں ہے آخر کیوں امی کیوں اصل بات بتاو بابا کیوں انکار کر رہے ہیں ماں خاموش ہو گئی وقت ہواوں کی دوش پر تیزی سے اڑا تارانے دیکھا ماں کی کمر جھک گئی ہے چہروں پر جھریا پڑ آئی ہے تارا وجہ سمجھ چکی تھی آفتاب آسمان سے غائب ہو رہا تھا تاریکی پھیلنے لگی تھی ماہتاب کا بھی کہیں پتہ نہیں تھا گویا رات تھی کالی رات ۔

 صبح عالم کی درخواست ابا کی شرافت نے قبول کر لیا ابا لیکن آسمان پر بدلی ہے بیٹے نہیں بدلی سے کیا مطلب نہیں تو بدلی کا چاند چاہیے۔۔اور تم نے بچپن میں تو ابن ساباح کا قصہ تو پڑھ ہی چکے ہو لیکن ابا سورج میں شعائیں نہیں ہیں چاند چمکے گا کیسے بیٹے یہ کہرے سورج کی کرنوں کو بہت دن تک چھپاے نہیں رہ سکتے میں نے انکار کی اور صورت چاہی تو دوست بول اٹھا تم بھول گئے کبھی تم نے اسی دوج کے چاند کی تمنا کی تھی اور اب وہ ماہ تمام تمہارے۔۔

 چاند کی حد میں تاروں نے ایک رات میں میٹینگ کی ہم اتنے ہیں سب مل کر چمکتے ہیں پھر بھی تاریکیوں کو دور نہیں کر پاتے چاند اکیلا ہے اور اکیلے ہی پوری کائنات کو منور کر دیتا ہے آخر اس کا راز کیا ہے پھر تاروں نے اس راز کو جاننے کے لیے ایک تارے کو چاند کے پیچھے لگا دیا ۔وہ چاند کے پیچھے لگا رہا اور ایک دن وہ تاروں سے کہہ رہا تھا چاند اپنی روشنی سے نہیں چمکتا اسے تو آفتاب چمکاتا ہے ۔آفتاب اور ماہتاب کی روشنی کی جانکاری تاروں کو ہو گئی پھر ایک تارا ٹوٹا زمین پر آیا اور اس نے آفتاب و ماہتاب کی محبت اور رشتوں کو زمین پر آشکار کر دیا ۔زمین کے اندر جذبہ رقابت جاگا وہ آفتاب و ماہتاب کے بیچ آ گئی چاند گہنا گیا چاندنی ماند پڑ گئی تاریکی چھانے لگی ۔          

     ” ابا میں شادی نہیں کروںگا

تحریر۔ ڈاکٹر ساجد حسین

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here