ہندستان میں ”چیک اینڈ بیلنس“ کا فارمولہ
امریکی سیاہ فام،ہندستانی مسلمان اورریاست و سیاست

جارج فلائڈ کے آخری الفا ظ”میرا دم گھٹ رہا ہے“ آج امریکہ ہی نہیں پوری دنیا میں سیاہ فاموں اور مظلوموں کا نعرہ بن چکا ہے۔اس کی موت پر اس وقت امریکہ جل رہا رہے۔”جہاں لوٹ ہوگی وہاں شوٹ ہوگی“کا امریکی صدر نے ٹوئٹ تو کیا لیکن ہیوسٹن کے پولیس سربراہ نے ان کو آئینہ دکھاتے ہوئے ”شٹ اپ“ کی ہدایت دے دی۔ابھی پانچ ماہ قبل پورے ہندستان خصوصا دہلی اوراتر پردیش میں ہوئے مظاہروں کے دوران حکومت اور پولیس کا رویہ ہم دیکھ چکے ہیں۔50سے زائد افراد کی موت صرف اتر پردیش میں ہوئی تھی،اس کے علاوہ دہلی میں ہوئے فسادات اور دیگر ریاستوں میں جو لوگ مارے گئے ان کی تعداد الگ ہے۔مغربی یوپی میں جو پولیس نے گھروں میں گھس کر کیا تھا،وہ بھی سب کی نظر میں ہوگا اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا وہ رویہ بھی لوگ نہیں بھولے ہوں گے جس کا آغازانتقام کے اعلان کے ساتھکیا تھا۔
ایک سیاہ فام کی موت کا واقعہ امریکہ کا ہے اور جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ہمارے یہاں نہیں ہو رہا ہے بلکہ امریکہ میں ہو رہا ہے اس لئے ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہے،ہم افتادگان خاک کہیں بھی رہیں،دنیا کے کسی بھی خطے میں رہیں ہمارا ان سے واسطہ ہونا چاہیے وہ امریکہ کے سیاہ فام ہوں یا فلسطین کے عربی یا پھر ہندستان کے دلت اور مسلمان،ان سب کے مابین ظلم کے شکار ہونے کا ایک رشتہ ہے جو ان سبھی کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔دونوں مقامات کی ریاست،سیاست اور عوام کے نظریئے کا فرق بھی اس واضح ہوتا ہے۔دنیا کا سپرپاور شخص صرف زبان تک محدود رہ جاتا ہے جبکہ یہاں جائز مطالبات پر زندگیاں چھین لی جاتی ہیں اور بچے یتیم کردیئے جاتے ہیں،جس میں ریاست اور سیاست کے ساتھ ہی عوام بھی ملوث ہوتے ہیں۔
امریکہ میں ہونے والے اس واقعہ نے اس کے دو چہرے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے،ایک وہ چہرہ جس میں سیاہ فام اور سفید فام ایک ہی قطار میں کھڑے ہو کر ”میرا دم گھٹ رہا ہے“ کے نعرے لگا رہے ہیں اور امریکہ کے لئے اس کو باعث شرم مان رہے ہیں،وہ بغیر کسی نسلی امتیاز کے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر ملک کو مضبوط کرنے اور نسلی تنافر کو دور کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں،اسی زمرے میں فوج کے وہ وہ گارڈ ز بھی شامل ہیں جو سیاہ فام امریکیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس واقعہ پر معافی مانگ رہے ہیں،کیونکہ ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ جو بھی ہوا ہے وہ ملک کے لئے بہتر نہیں ہے،اس لیے وہ قیام امن اور سیاہ فاموں میں اعتماد و اعتبار پیدا کرنے کے لئے جھکنے سے بھی نہیں ہچکچا رہے ہیں۔دوسرا چہرپولیس افسر ڈٖیرک کا ہے،جس میں نسلی امتیاز اس طرح بھرا ہوا تھا کہ اس کے نزدیک ایک انسان کے ”میرا دم گھٹ رہا ہے“فریادی جملے کی کوئی اہمیت تھی۔اس طرح دو نظریئے سامنے آئے ایک نسلی امتیاز پر مبنی اور ایک اس کے خاتمہ کے لئے کوشاں۔
اس تناظر میں جب ہم ہندستان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ایک دوسری صورت نظر آتی ہے۔6برس قبل 2014میں پونے میں انجینئر محسن شیخ کا ”ہندو راشٹر سینا“ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اس وقت قتل ہوا تھا جب وہ عشا کی نماز پڑھ کر گھر واپس آرہا تھا،یہ ایک منصوبہ بند قتل تھا لیکن اس کو ہجومی تشدد کہا گیا،اس قتل کی بنیاد نفرت اور تعصب تھی مگر ہر طرف اس وقت بھی سناٹا چھایا رہا اور آج بھی،اس کے بعد ہجومی تشدد کا پورا ایک سلسلہ چل نکلا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریاست،سیاست اور عوام سب ایک پلیٹ فارم پر آکر نہ صرف ایسے واقعات کی مذمت کرتے بلکہ حکومت کو مجبور کرتے کہ وہ اس کے خلاف قانون سازی کر کے مجرموں کیفر کردار تک پہنچائے کیونکہ ”چیک اینڈ بیلنس“نہایت ضروری ہوتا ہے،ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پسند ذہن رکھنے والے حکمراں ”چیک اینڈ بیلنس“ میں یقین رکھتے ہیں مگر افسوس ک بات ہے کہ ہمارے یہاں نظام میں چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے کیونکہ اقلیتوں کے خلاف نفرت و تعصب کے وائرس خود ”چیک اینڈ بیلنس“ کرنے والوں میں میں پائے جاتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ہجومی تشدد میں شامل افراد کو اسٹیج سے حکمراں اور ممبران پارلیمنٹ اعزاز سے نہ نوازتے،اور اگر کسی نے ایسا کیا تھا تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی مگر ایسا اس لئے نہیں ہوا کہ اس وائرس کا سب کے سب شکار تھے۔چند ماہ قبل دہلی میں فسادات ہوئے جن کی بنیاد مذہبی جنون سے پھوٹی قومیت اور اقلیت کے خلاف نفرت تھی،اس کے ذمہ داران کو کیا سزا ملی؟اسی جنون میں پوری جمعیت پر گولی چلانے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی،اس کی بنیاد بھی مذہبی جنون ہی تھا۔کیا آپ امید کرتے ہیں کہ ان کوسزائیں ملیں گی؟ جبکہ دوسری طرف احتجاج کرنے والے طلباو طالبات اوخواتین پر کس طرح سے پولیس نے مظالم کئے،دنیا نے یہ دیکھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ کے ساتھ ہی عوام کا ایک ایسا طبقہ تھا جو پولیس کی اس کارروائی کو جائز ٹھہرا رہا تھا بلکہ نعرے لگائے جا رہے تھے کہ ”مودی جی تم لٹھ بجاؤ،ہم تمہارے ساتھ ہیں“۔یہ ذہنیت کیونکر پیدا ہوائی،جو افراد اس ذہنیت کے نہیں ہیں کیا وہ سڑکوں پر نکل کر آئے کہ نہیں ملک میں اس طرح کے تعصب کو پنپنے نہیں دیا جائے گا؟در اصل اکثریتی اور اقلیتی طبقات کے مابین منافرت کا برقرار رہنا ریاست اور اس کے حکمراں طبقے پر منحصر ہوتا ہے کیونکہ ان کی خود اپنی بقا اسی پر منحصر ہوتی ہے ایسے میں بھلا وہ اس کے خلاف کیوں کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے جس سے خود انہیں نقصان پہنچے۔یہ ایک طرح سے ریاست اور سیاست کا گھناؤنا کھیل ہے۔دوسری طرف جو اس ذہنیت کے حامل نہیں ہیں مثلا عوام کی اکثریت، اور عدلیہ ان دونوں نے یہاں ہونے والے ہجومی تشدد کے واقعات و سانحات کو ناخوشگوار معمولات سمجھ کر ان سے پہلو تہی کر لیا ہے۔
ریاست،سیاست،عوام اور عدلیہ کی اس مسئلے سے پہلو تہی کا نقصان یہ ہوا کہ ایک ڈاکٹر اور میڈیکل کالج کی پرنسپل برملا اس بات کا اظہار کرتی ہے،مسلمانوں پر اپنی دوائیں اور کٹس وغیرہ نہیں برباد کرنا چاہئے ان کے اوپر سرمایہ کا خرچ اسراف ہے،ان کو آئیسولیشن کے بجائے جیل یا کسی جنگل میں ان کو چھوڑدینا چاہئے،ان کے علاج سے ہمارے ڈاکٹر مر رہے ہیں،تیس کروڑ مسلمانوں کے لئے سو کروڑ آبادی کی جان کو ہم خطرے میں ڈال رہے ہیں،یہ پورا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا،اسی طرح سے مدھیہ پرددیش میں ایک پولیس اہلکار لاک ڈاؤن میں ڈارھی والے ایک شخص کی پٹائی بغیر کسی غلطی کرتا ہے،جب اس کے خلاف وہ ایف آر کے لئے جاتا ہے تو یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ چلیں چھوڑیں اس نے مسلمان سمجھ کر ایسا کردیا،سمجھنے میں اس سے غلطی ہوگئی تھی۔ستمبر2019میں راجدھانی دہلی میں ساحل نامی ایک نوجوان ٹھاکر کو پنڈتوں نے مسلمان سمجھ کر مار دیاتھا۔ اس سے قبل2017میں گریٹر نوئیڈا میں گؤ رکشکوں نے دو ہندوؤں کی پٹائی مسلمان سمجھ کرکردیتھی،اس طرح کے ایک دو واقعات نہیں ہیں،ملک کے کونے کونے میں اخلاق اور پہلو خان ہیں جو مذہبی جنونیوں اور پولیس کا شکار ہو رہے ہیں۔کیا ان واقعات سے مسلموں کے خلاف سماج کے ہر طبقے میں سرایت کرچکی نفرت اور پر پولیس کے مظالم کی وضاحت نہیں ہوتی؟ مگر ریاست،سیاست اور عدلیہ سب خاموش رہتے ہیں،عوام کے کان پر بھی جوں تک نہیں رینگتی،اندازہ سب کو ہے کہیسے ڈاکٹر بھی سماج میں خوف کا سبب بنتے ہیں،جو کرونا وائرئس سے بھی زیادہ خطرناک ہے لیکن معمول کے مطابق وہ اس سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ملک کے جس طرح کے حالات ہیں،اس سے ہزار محبتوں کے باوجود ہمارا بھی دم گھٹ رہا ہے،مگر یہاں اگر کوئی یہ ایہ الفاظ بول دے تو اس کو ریاست،سیاست اور عدلیہ کوئی بھی سکون سے رہنے دے گا؟
ہندو ہونا،مسلمان،رہنا،سکھ مت کی پیروی کرنا یا پھر حضرت عیسی ؑ کے قدموں میں جنت تلاش کرنا حقوق انسانی کی سطح پر کوئی بری بات نہیں ہے،ہر انسان کو اختیار ہے کہ وہ جو مذہب چاہے اختیار کرے لیکن یہی مذہبیت جب قومیت بن کر ابھرتی ہے اور انسان دشمنی میں بدل جاتی ہے تو انسان خود بھی شیطان کے روپ میں تبدیل ہوجاتا ہے،ایسی مذہبی انسان کے بجائے شیطان ہوتے ہیں خواہ ان کا تعلق سیاست سے ہو،ریاست سے ہو یا پھر ریاستی انتظامات سے،اس لئے ”چیک اینڈ بیلنس“ کا فارمولہ اختیار کیا جانا ضروری ہے۔عوا م کو بھی سرکار کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ اس فارمولے پر عمل کرے اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو اس سے صرف ایک طبقے کے خلاف نفرت نہیں پھیلے گی بلکہ اس کی زد میں وہ خود آجائیں گے،جس سے ان کا اور اس پورے ملک کے تنوع کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here