خانۂ کعبہ توحید کا مرکز تھا _ اس کی تعمیر اللہ کی عبادت کے لیے کی گئی تھی _ صدیوں تک اس کی یہی حیثیت باقی رہی _ لیکن پھر اس کے اطراف میں رہنے والے آہستہ آہستہ بتوں کی پرستش کرنے لگے _ انھوں نے توحید کے مرکز کو بتوں کا اڈّہ بنا دیا _ لات ، عُزّہ ، مناۃ ، ہُبُل اور نہ جانے کن کن ناموں سے بہت سے بت بنا ڈالے _ وہ ان کے آگے اپنی جبینِ نیاز ٹیکتے ، ان کو مشکل کشا سمجھتے ،  ان سے حاجت روائی چاہتے ، ان سے فریاد کرتے اور ان کی دہائی دیتے _ کہا جاتا ہے کہ خانۂ کعبہ کے اندر اور باہر حرم میں تین سو ساٹھ (360) بت رکھے ہوئے تھے۔  

          خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ہوئی تو خانۂ کعبہ اسی طرح بت خانہ بنا ہوا تھا _ اس سماج میں گنتی کے چند افراد ایسے بھی تھے جو بت پرستی سے نفرت کرتے تھے اور ایک خدا کو ماننے والے تھے ، لیکن وہ خاموش تھے  _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بھی بعثت سے قبل توحید کے شیدائی اور بت پرستی سے متنفّر تھے _ بعثت کے بعد تو آپ کی بنیادی دعوت ہی توحید کا اعلان اور شرک و بت پرستی کی تردید تھی _  آپ نے دو ڈھائی برس خفیہ اور انفرادی طور پر دعوت کا کام کیا ، اس کے بعد علی الاعلان اپنی دعوت پیش کی _ آپ نے توحید کا پیغام پیش کیا اور شرک اور بت پرستی پر سخت ترین تنقید کی ، لیکن خانۂ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں سے کوئی تعرّض کیا _ بت پوجنے والے حرم میں آکر بت پوجتے رہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ پر ایمان لانے والے حرم میں آکر اللہ واحد کا کلمہ بلند کرتے رہے _ سعید روحیں آپ کی طرف کھنچتی رہیں ، آپ پر ایمان لاتی رہیں ، بت پرستی سے توبہ کرتی رہیں اور توحید کا عَلَم تھامتی رہیں _ اسلام کے دشمن اہلِ ایمان کو ہر ممکن اذیتیں پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ، لیکن اہلِ ایمان صبر کا دامن تھامے رہے _ بالآخر انہیں اپنا ایمان بچانے کے لیے اپنا وطن چھوڑنا پڑا ، وہاں بھی دشمنوں نے انہیں چین سے رہنے نہیں دیا ، کئی جنگیں ہوئیں _ لیکن ایک وقت ایسا آیا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اہلِ ایمان کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے  _ اقتدار پر قابض ہونے کے بعد آپ نے پہلا کام یہ کیا کہ خانۂ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا _ کتبِ سیرت میں ہے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی _ آپ اس کے ذریعے ایک ایک بت کو ٹھوکا دے کر گراتے جاتے تھے اور اس وقت آپ کی زبانِ مبارک پر یہ آیت جاری تھی : جَآءَ الۡحَـقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ‌ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا (الاسراء:81

 “حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو مٹنے ہی والا ہے “

           ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا مذکورہ بالا اسوہ ان کے لیے راہِ عمل دکھاتا ہے _ اسے درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جاسکتا ہے :

01-

بابری مسجد کو ، جس میں چار سو برس سے زائد عرصہ تک اللہ واحد کی عبادت کی جاتی تھی ، ظالمانہ طریقے سے ڈھادیا گیا _ عدالت عالیہ نے نومبر 2019 کے اپنے فیصلے میں صریح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی ، 22 دسمبر 1949ء تک اس میں پابندی سے نماز ہوتی رہی تھی ، اس رات اس میں مورتیوں کا رکھا جانا ایک غیر قانونی اور غیر دستوری عمل تھا  اور 6 دسمبر 1992ء کو مسجد کی شہادت ایک مجرمانہ فعل تھا _ ان واضح حقائق کو تسلیم کرنے کے باوجود عدالت نے مسجد کی زمین ان لوگوں کے حوالے کر دی جو مجرمانہ طور پر اس کی شہادت میں شریک تھے ، اس صریح زیادتی کو ملکی اور عالمی دونوں سطحوں پر محسوس کیا گیا ہے _ اس پر ہم صبر کا دامن تھامے رہیں اور ہر مشکل وقت میں اللہ کی طرف پلٹیں اور اسی سے لَو لگائیں۔

2

حالات چاہے جتنے زیادہ خراب اور ناگفتہ بہ ہوجائیں ہمیں ہمّت و حوصلہ سے کام لینا ہے اور مخالف حالات میں جینے کا سلیقہ سیکھنا ہے _ ایک مومن کے لیے مایوسی کفر ہے _ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے  _ اللہ تعالیٰ کی سنّت یہ ہے کہ وہ بدلتے رہتے ہیں _ اس کا ارشاد ہے : وَتِلۡكَ الۡاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ النَّاسِ (آل عمران :140)

” یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں _”

اسپین اور ترکی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں _ اسپین سے ایک ایک مسلمان کو چُن چُن کر نکال دیا گیا یا عیسائی بنالیا گیا اور تمام مساجد کو چرچوں میں تبدیل کردیا گیا _ الحمد للہ اب پھر وہاں مسلمانوں کا وجود ہے اور مسجدیں قائم اور آباد ہورہی ہیں _ ترکی میں اسلام کو دیس نکالا دے دیا گیا ، قرآن ، اذان ، نماز وغیرہ پر پابندی عائد کردی گئی اور مسجدوں کو میوزیم اور اصطبل بنادیا گیا _ الحمد للہ وہاں پھر اسلام پوری قوت سے ابھرا اور مسجدیں آباد ہوگئیں۔

3 _

ہم ہر حال میں توحید کا عَلَم بلند کیے رہیں اور شرک اور بت پرستی کے تمام مظاہر سے دور رہیں _ ہم ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہیں _ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو اور آپ کے امّتی ہونے کی حیثیت سے ہمیں ان کی ملّت کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے _ ہم براہیمی نظر پیدا کرنے کی کوشش کریں _ ہماری پہچان عقیدۂ توحید سے ہو اور ہم شرک و بت پرستی سے کسی بھی حال میں سمجھوتہ نہ کریں _

4

ہم توحید پر مبنی اپنی دعوت پیش کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں _ انفرادی طور پر ، اجتماعی مجلسوں میں ، کھلے چھپے ، دن رات ، مذاکروں کی محفلوں میں ، جہاں بھی ہمیں موقع ملے ، بے کم و کاست دعوتِ توحید پیش کرنے میں ذرا بھی جھجھک سے کام نہ لیں _ اسے اپنی زندگی کا مشن بنالیں _ ان شاء اللہ ہماری کوششیں بارآور ہوں گی ، سعید روحیں دعوتِ حق کو قبول کریں گی اور ہمارا ملک نغمۂ توحید سے گونجے گا۔

          خانۂ کعبہ کی مثال ہمارے سامنے ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا اسوہ بھی _  خانۂ کعبہ عرصے تک بت خانہ بنا رہا ، آپ کی اور آپ کے اصحاب کی پیہم کوششوں سے وہ توحید کا مرکز بنا _  ہمارے ملک میں اللہ کے گھر کو بت خانہ میں تبدیل کیا جارہا ہے _ اللہ کی قدرت سے بعید نہیں کہ ہماری کوششوں سے نہ صرف وہ پھر اللہ کا گھر بن جائے ، بلکہ دوسرے بت خانوں سے بھی توحید کی صدا بلند ہونے لگے _ وَمَا ذلکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیزٍ

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here