مجھے میرے احباب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا کے ذریعہ ملنے والے کمنٹس کے لحاظ سے یہ کہنے میں کوئی عار کا احساس نہیں ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سیاسی دلدل میں پھنس کر نام نہاد رہنما اور لیڈروں کے دام فریب میں ایسا گم ہوچکا ہے کہ کسی بھی خلاف منشا سیاسی بات پر ایک دوسرے کو حقیر‘منافق‘ غیر مسلم اور ایمان ودھرم کا سوداگر وغیرہ جیسے القاب سے نوازنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ مانا کہ مسلمانوں کی اکثریت سیکولر پارٹیوں کی سایہ منصب پر برسوں سے حصے دار اور براجمان رہے۔ سیکولر پارٹیوں سے وابستگی کے ساتھ مسلمانوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا۔ ہر محاذ پر مسلمانوں کی اکثریت نے بی جے پی کو اپنا سیاسی‘ مذہبی‘ ذاتی اور انتخابی دشمن تصور کرنا شروع کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 70/فیصد اکثریتی طبقہ کو مسلمانوں کا دشمن بنانے میں خود مسلمانوں نے صف اول میں حصہ لے لیا۔ جس کے عوض ہندوستان کی اکثریت نے 2014/ اور 2019/ میں نریندر مودی کو اقتدار کا باگ ڈور سونپ دیا۔ بات یہی پر ختم نہیں ہوپائی اکثریتی طبقے میں یہ بات طول پکڑنا شروع ہوئی کہ مسلمان قوم ایک جابر قوم ہے جس قوم میں رحمدلی‘ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک جیسے معاملات سے یہ قوم کوسوں دور ہے۔وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا یہاں کی اکثریت کے ذہنوں میں طرح طرح کی تشویشناک باتیں وقوع ہونا شروع ہوئیں جس کے نتیجہ میں مختلف بہانوں کے ذریعہ ہو یا پھر بھیڑ کے ذریعہ مسلمانوں پر حملے ہونا شروع ہوئے۔ جسے کبھی گئو کشی کے نام پر قتل، ماب لیچنگ تو کبھی لوجہادوغیرہ کا نام دے دیا گیا۔ یہ ساری چیزیں یوں ہی وقوع پذیر نہیں ہونا شروع ہوئیں بلکہ اس کیلئے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ بھی ذمہ داری ہے جس نے چند سیکولر پارٹیوں سے ذاتی مفاد کی خاطر پوری ملت کے ساتھ سودا کرتے ہوئے بی جے پی سے بغض وعناد کو جنم دے دیا۔ مسلمانوں کی اکثریت جس کی آبادی ہندوستان میں قریب 20/فیصد ہے اس طبقے میں ایک غلطی یہ ہوئی کہ ”اس طبقے کے پاس غیروں کے اندھیرے دل میں روشنی جلانے کیلئے مسلمانوں کے پاس اسلامی حمیت اور فرمان الٰہی واحکامات نبویؐ جیسے اعمال کی کمی ہوتی چلی گئی جس سے یہ طبقہ ہر محاذ پر پسماندگی کا شکار ہوتا چلاگیا“۔انہیں وجوہات کی بنا پر آخر میں وہ دور بھی آنا شروع ہوچکا جس دور میں اس اقلیتی طبقے میں نہ تو اکثریت کے پاس جا کر اپنا اسلامیانہ چہرہ دکھانے کی حمیت رہی اور نہ ہی دین اسلام کی امن ویکجہتی کی تعلیم کو عام کرنے کی صلاحیت۔ کچھ نام نہاد مسلم لیڈروں اور سیکولر جماعتوں کے لیڈروں نے اس بے بس وبے کس ملت صرف اور صرف اپنے ووٹ بینک کی خاطر آپسی بھائی چارگی کو تار تار کرتے ہوئے بغض وعناد کے بیج بوکر امن وسلامتی والی اس سرزمین کو بغض وعناد کا میدان بناڈالا۔ مسلم طبقہ اس خوش فہمی میں اب بھی مبتلا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک میں 1000/کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ اس طبقے کی مسجدیں پانچوں وقت مصلیوں سے خالی رہتی ہیں۔ 90/فیصد لوگ صرف جمعہ کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ 96/فیصد لوگ سودخوری میں بری طرح سے مبتلا ہوچکے ہیں۔ 70/ فیصد لوگ زکوٰۃ صحیح سے نہیں نکالتے ہیں۔ 45/فیصد طبقے میں اب بھی دینی یا دنیاوی تعلیم کی رسائی نہیں ہوپائی ہے۔ مسلم معاشرے کی اکثریت والی آبادی میں بچہ مزدوری اب بھی عام ہے۔ پھر بھی یہ طبقہ خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ کوئی علاؤالدین کا چراغ لیکر آئے اور ان کی ساری مشکلات کو پلک جھپکتے ہی حل کر ڈالے گا۔ مسلمانوں کو اللہ نے کہا ہے کہ ”تم میں سے بہتر امت وہی ہے جو لوگوں کو بھلائی کا حکم کرتا ہے اور لوگوں کو برائی سے روکتا ہے“۔ مگر یہ طبقہ اپنے آپ کو 73/فرقے میں بانٹ کر ہر فرقے نے یہ مان لیا کہ ہم راہِ راست پر ہیں باقی 72/فرقے راہِ راست پر نہیں ہیں۔ جبکہ اللہ نے تاکید کر کے فرمایا کہ: سارے انسان خسارے میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائے اور عمل صالح کرتے رہے۔ ساتھ ہی صبر اور حق پر قائم ودائم رہے“۔

محمد انجم راہی
نیومارکیٹ‘کانکی‘اسلامپور‘بنگال

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here