کلکتہ : شہر کے معروف ادیب اور مرشد آباد کے متعلق کئی کتابوں کے مصنف اصغر انیس (اسسٹنٹ ماسٹر ، تاریخ ، کڑایہ گورنمنٹ اسکول ، کولکاتا) کی کتاب ”عہدِ واصفیہ “ کی تقریبِ رسمِ اجراگزشتہ سنیچر ۱۳فروری ۲۰۲۱ءبوقت ۱۱بجے دن اسکول میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر محمد منصور عالم (سابق ممبر ، پبلک سروس کمیشن ، مغربی بنگال) نے کی جب کہ نقابت کے فرائض جواں سال ادیب و شاعر جناب شاہد اقبال نے انجام دےے۔ تقریب کا آغاز جناب نجیب الحسین کی تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ مہمانوں کی خدمت میں گلہائے عقیدت پیش کیے جانے کے بعد ڈاکٹر عبدالخالق (ہیڈ ماسٹر، کڑایہ گورنمنٹ اسکول) نے مہمانوں کا خیرمقدم اور صاحبِ کتاب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ کتاب غیر منقسم بنگال کی ایک مایہ ناز شخصیت کی حیات اور خدمات کے مختلف گوشوں کو اجاگر کرتی ہے ۔ طرزِ تحریر سے صاف جھلکتا ہے کہ صاحبِ کتاب کا جذباتی تعلق اس موضوع سے رہا ہے ۔ “ اس کے فوراً بعد کتاب کی رونمائی محترمہ ڈاکٹر صفورہ رازق (اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ تاریخ، عالیہ یونیورسٹی ، کولکاتا) کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔

پروگرام کی جھلکیاں

جناب ریاض دانش (افسانہ نگار) نے اپنی گفتگو میں نہایت تفصیل سے کتاب کے ہر باب کا جائزہ لیتے ہو ئے کہا کہ ”یہ کتاب مرشد آباد کے نواب بہادر واصف علی میرزا کی زندگی اور کارناموں کا آئینہ ہے۔ کتاب قلم بند کرنے کے پیچھے فاضل مصنف کا یہ جواز بے حد چبھتا ہوا ہے کہ اگر ہم زمانہ حال میں تاریخ نویسی کا فریضہ انجام نہ دیں تو ہمارے ماضی کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ “ ڈاکٹر عقیل احمد عقیل نے کتاب کے تحقیقی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اصغر انیس صاحب نے کتاب میں تاریخ نویسی کے ساتھ ساتھ ایک محقق کا کردار بھی بخوبی ادا کیا ہے جس سے نواب بہادر واصف علی میرزا کی حیات کے ساتھ ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیاں اور ادبی کارگزاریاں بھی کھل کر سامنے آتی ہیں۔ “ ڈاکٹر نعیم انیس نے اصغر انیس صاحب سے اپنے دیرینہ مراسم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”موصوف سے میرے تعلقات تقریباً ۲۵ برس پرانے ہیں جب مرشد آباد کے نواب بہادر انسٹی ٹیوشن میں مجھے پہلی تدریسی ملازمت ملی تھی۔ اصغر انیس صاحب وہاں تاریخ کے استاد تھے ۔ شروع سے ہی میں نے انھیں درس و تدریس کے علاوہ ادبی و ثقافتی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے پایا۔ اسکول کے طلبا کو لے کر ڈراما اسٹیج کرتے اور وہ ڈراما خود ہی لکھتے ۔ بعد میں انھوں نے باقاعدگی کے ساتھ لکھنا شروع کیا اور آج ماشاءاللہ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں۔ “ ڈاکٹر صفورہ رازق نے تاریخ نویسی کے تکنیکی پہلوو ¿ں پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”غیر جانب دارانہ طو رپر لکھنا تاریخ نویس کا اولین فرض ہے۔ اگر کسی تاریخ موضوع سے ہمارا راست تعلق ہو تب بھی ہم وہی لکھیں گے جو سچ ہو۔ اصغر انیس صاحب نے اپنی اس کتاب میں سچ لکھا ہے۔غیر جانب دارانہ طور پر لکھا ہے اور موضوع کا حق ادا کیا ہے۔“ ڈاکٹر غلام سرور (سابق صدر، شعبہ فارسی ، مولانا آزاد کالج ، کولکاتا) نے کہا کہ ”میں نے کتاب کا سرسری مطالعہ کیا ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ مرشد آباد کی تاریخ بہت وسیع ہے اور مقصود آباد سے مرشد آباد بننے اور پھر آزادی کے بعد انڈین یونین میں شامل رہنے تک ضلع مرشدآباد اور اس کے باشندگان نے ہزاروں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ قابلِ ستائش ہے۔ “ صاحبِ کتاب جناب اصغر انیس نے مہمانانِ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ تاریخ کے طالب علم ہیں اور مرشد آباد کی اس تاریخی شخصیت سے میری جذباتی وابستگی رہی ہے ۔ اس لیے یہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ نواب بہادر واصف علی میرزا کی حیات و خدمات پر ایک مبسوط کتاب لکھوں جس میں ان کی زندگی کے تمام متنوع پہلووں کا جائزہ لے سکوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میری یہ خواہش پایہ تکمیل کو پہنچی یہ کتاب زیورِ اشاعت سے آراستہ ہوکر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ “ ڈاکٹر منصور عالم صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ”اردو قلم کار حضرات کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ صرف ادب اور شعر و سخن تک خود کو محدود نہ کریں بلکہ تاریخ نویسی میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ ملک کی اور صوبے کی تاریخ لکھنا ممکن نہ ہو تو علاقوں کی ، اداروں کی ، انجمنوں کی تاریخ لکھیں۔ وہ بھی نہ ہو تو کم از کم اپنے اجداد ، اپنے اسلاف کی تاریخ لکھیں۔مگر تاریخ نویسی میں حصہ لیں تاکہ آنے والی نسلیں جانے والوں کو فراموش نہ کردیں ۔ کتاب ”عہدِ واصفیہ“ اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک منفرد کتاب ہے کیوں کہ اس میں غیرمنقسم بنگال کی ایک اہم شخصیت نواب بہادر واصف علی میرزا کی حیات و خدمات کا مفصل جائزہ لیا گیا ہے۔ ہرچند کہ ان کے ادبی کارناموں کا باب کچھ تشنہ ہے لیکن اصغر انیس صاحب نے مستقبل کے محققین کی رہنمائی کردی ہے ۔ امید قوی ہے کہ جلد ہی اس موضوع پر مزید کام کیا جائے گا۔ “ اخیر میں سیّدہ حورا انیس نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ تقریب میں شہر کے معروف ادبا و شعرا کے علاوہ کڑایہ اسکول کے اساتذہ اور غیرتدریسی عملے کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

پریس ریلیز، سیّدہ حورا انیس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here