اردو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کا اولین مقصد یہ ہے کہ  اردو زبان کو ایڈوانس ٹیکنا لوجی سے تعارف کرا یا جائے : قاسم رضا

شاہین باغ:  ہندوستا ن کی مشہور تنظیم اردو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک ادبی محفل کا انعقاد کیاگیا جس میں ہندوستا ن اور بیرون ملک کے شعراء نے شرکت کی اور اپنے کلام سے ادبی محفل کو کامیابی کی منزل تک پہونچایا ۔اس محفل کی صدارت  ڈاکٹر شاذیہ عمیر صاحبہ نے کی جبکہ نظامت کے فرائض حامد علی اخترصاحب نے بحسن و خوبی  انجام دیئے۔ مہمان خصوصی کے طور ڈاکٹر علی احمد ادریسی( استاد، دہلی یونیورسٹی )نے شرکت کی ۔  

 اردو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن

اردو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن ایک ایسی تنظیم ہے جس کا مقصد اردو زبان اور اس زبان سے وابستہ لوگوں کو اکیسویں صدی میں  اس قابل بنانا ہے کہ وہ موجودہ عہد کے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔ اس سلسلے میں فاؤنڈیشن کی کوشش یہ بھی ہے کہ اردو زبان کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے اور اردو طالب علموں کو ایسی ٹریننگ دی جائے جس سے وہ موجودہ عہد کے چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔اس فاؤنڈیشن کے صدر قاسم رضا نے بتایا کہ ہمارا اولین مقصد یہ ہے کہ  اردو زبان کو ایڈوانس ٹیکنا لوجی سے تعارف کرا یا جائے تاکہ اردو طلبہ کے مستقبل کو سنوارا جاسکے اور اس مقصد کے حصول کے لئے یہ تنظیم ایک منصوبہ بند طریقے  پر عمل پیرا ہےاور جلد ہی آپ لوگوں کے سامنے اس کے نتائج  دیکھنے کو ملیں گے ۔ اس کے بعد فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جناب عبداللہ صوفی نے یو،آر،ڈی،ایف کے مقصد کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ فاؤنڈیشن اردو زبان سے وابستہ طلبہ کو ایسے مواقع فراہم کرے گی جس سے ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو اور انہیں اپنا کیریئر اختیار کرنے میں کسی بھی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

افتتاحی پروگرام کے بعد باقاعدہ ادبی محفل کا آغاز ہوا اور ناظم محفل حامد علی اختر صاحب نے یکے بعد دیگرے شعراء کو مدعو کیا ۔تمام شعراء نے اپنے کلام سے سامعین دل جیت لیا ۔صدر محفل  ڈاکٹر شاذیہ عمیر صاحبہ نے  اردو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے محفلوں کا انعقاد ضروری ہے اور طلبا  کو یہ موقع ان کی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے ۔آخر میں فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مسعود عالم نے شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔ذیل میں چند شعراء کے اشعار بطورِ نمونہ پیش کیے جا رہے ہیں۔

کیسا کردار عام کرڈالا

تم نے راوڑ کو رام کر ڈالا

لعنت ہے تیری حکمرا نی پر

سب کا جینا حرام کر ڈالا                 حامد علی اختر

آؤ مجھے مٹاؤ بڑے  شوق سے 

میرے اوپر کوئی آسماں نہ رہا                             عبیداللہ

 تجھ کو چھونے سے مچلتا ہے یہ خوشبو سا بدن

مجھ سے اب عشق میں تقصیر نہیں ہو سکتی        شاہ رخ عبیر اسکالر دہلی یونیورسٹی

تمہارے چہرے پہ جو یہ گلال عشق کا ہے

نظر آتا ہے یہ سب کو جمال عشق کا ہے             خالد علی  

جو اہل ستم ہیں وہ ستم کرتے رہیں گے

ہم سب کی تاریخ رقم کرتے رہیں گے         فرمان چودھری

انہیں محسن میں ایسے ہی بھلا دوں

میرے ہاتھوں  میں کوئی جام کیوں ہو       ڈاکٹر محسن عتیق

یہ کیا ستم ہے  کہ آتا ہوں  ایک صحرا سے

ذرا سی گھاس کو شاداب دیکھنے کے لئے          اختر اعظمی  

میری وفا کا روز یہاں امتحاں ہوا

مجرم ہوا  جو عاشق اردو زباں ہوا         جاوید احمد صدیقی

ایک بھیگے ہوئے بوسے نے بچا رکھا ہے

ورنہ اس موسم بے آب میں کیا رکھا ہے      سالم سلیم  

حیثیت اپنی پتہ ہے یہ مگر وعدہ ہے

میں کسی کو بھی ترا دل نہ دکھانے دوں گا

میں تیری مانگ  میں تارے  تو نہیں بھر سکتا

ہاں مگر آنکھ میں آنسو ں نہیں آنے دوں گا         عادل رشید

اس پروگرام میں امت اپارٹمینٹ کے ماسٹر پرویز،ماسٹر عبدالصمد ، ابوطلحہ ،ایڈ وکیٹ قمر انصاری  ، فہیم الدین ،عبدالواحد ،محمد عامر وغیرہ  نے خصوصی طور پر

شرکت کی ۔

ادبی محفل کی جھلکیا ں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here