یہ وہ زبان ہے جس نے جدوجہد آزادی کے دوران’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ دیا تھا ۔ یہ زبان مجاہدین آزادی کی آرزو مندیوں اور جذبات واحسات کے اظہار کا بہترین اور واحد وسیلہ بن چکی تھی ۔ مگر فسطائی ذہنیت رکھنے والوں نے زور وشور سے پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ یہ ایک غیرملکی زبان ہے ۔

تحریر: محمد انجم راہی ‘ اسلام پور، مغربی بنگال

ہندوستانی دستور ۲۶جنوری ۱۹۵۰کے دن نافذ کیا گیا اور ۱۵ اگست۱۹۴۷کے دن ہندوستانی تاریخ میں ایک نئی صبح کا آغاز ہوا ۔ ہندوستانی سماج میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنا شروع ہونے کےساتھ مروجہ محبان اردو کو ایک منظم سازش کے تحت ختم کردینے کا رجحان بھی پیدا ہوگیا ۔ وطن کی آزادی کے بعد ہی ملک میں ایک ایسا با اثر طبقہ اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیتے ہوئے مخالفت میں اترآیاجبکہ یہی طبقہ آزادی سے قبل اردو کی جانثاری کا دم بھرتا تھا اور اسکی معاشی وسیلے اور سیاسی مفادات سے وابستہ تھے ۔ ملک میں ہر علاقے کے باشندے اس سے محبت کرتے تھے ۔ ہندو‘مسلم‘سکھ ‘عیسائی سبھی اس زبان کے چاہنے والوں میں شامل تھے ۔ ہمارے ملک کو آزادی کے حصول کے بعد غلامی کا طوق اتر تے ہی اچانک اردو کو پابہ زنجیر کردیا گیا ۔ یہ وہ زبان ہے جس نے جدوجہد آزادی کے دوران’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ دیا تھا ۔ یہ زبان مجاہدین آزادی کی آرزو مندیوں اور جذبات واحسات کے اظہار کا بہترین اور واحد وسیلہ بن چکی تھی ۔ مگر فسطائی ذہنیت رکھنے والوں نے زور وشور سے پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ یہ ایک غیرملکی زبان ہے ۔ اس زبان کو اس ملک میں پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ ملک کی آزادی کے دوسرے ہی دن حکومت اتر پردیش نے پوری ریاست میں اردوتعلیم ختم کردی اور ارردو کوسرکاری دفتروں اور اداروں سے باہر کردیا گیا ۔ سیاسی پارٹیاں ہر الیکشن کے موقع پر اپنی سیاسی بازیگری کے ذریعہ اردو کی بقاء اور ترقی کے نعرے کو سیاسی رنگ دے کر اپنی سیاسی روٹیوں کو سینکنے کے ماہر ہوگئی ہیں ’ چند کاغذی سطح پر اقدامات کرنے کے بعد‘ آگے کی کارروائی ‘ آئندہ الیکشن کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اردو ذریعہ تعلیم کا منصوبہ بندانداز میں انتظام اردو کے فروغ اور بقاء کا راست ذریعہ ہے ۔ لاشعوری یادانستہ طور پر مادری زبان سے حصول تعلیم کو اردووالوں نے کسر شان سمجھ لیا ہے ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم مادری زبان کی اہمیت کو یکسر فراموش کرچکے ہیں ۔ سماج کے نچلے طبقے اور نادارطبقے ہی بادل نخواستہ اردو ذریعہ کو اپنی معاشی مفلوک الحالی کے سبب اختیار کرتے ہیں ۔ آج کی نسل کیلئے اردو میں کوئی دلکشی باقی نہیں رہی ۔ چند اردو میں لکھنے اور بولنے والوں کو ‘ چند باشعور درمیانی طبقے کے لوگوں کو‘چند سیاستدانوں کو جنہیں اردو کے نام پر اپنی دکانیں چمکانی ہے اور اردو کی چند تنظیموں کو جواردو کے نام پر اپنی روزی روٹی کا انتظام کرلیتی ہیں ‘یہ سارے ہنگامے بقول مرزا غالب’’دل کو بہلانے کیلئے اچھے ہیں ‘‘ ۔ اس سے اردو‘ نوجوان نسل میں منتقل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اردو کی ترقی کا دیرینہ خواب پورا ہوسکتا ہے ۔ جب تک ہمارے تعلیمی نقشے میں اردو کو اولیت نہیں دی جائے گی‘ صورتحال کو بدلنا ممکن نہیں ۔ اسکول کی سطح پر بچوں کی مادری زبان میں تعلیم کا انتظام حکومت سے کرایا جائے ۔’’قانون حق تعلیم ‘‘ کے نفاذ کے بعد ہمارا کام آسان ہوگیا ہے ۔ ملک میں نافذ العمل یہ قانون تمام سیاسی حکومتوں کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ سرکاری مدارس میں بچوں کو ابتدائی تعلیم انکی مادری زبان میں دی جائے ۔ قانونی طور پر ہم اس حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی نوخیز نسل کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا بھرپور موقع فراہم کرسکتے ہیں ۔ اس دور کا ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ جو طبقے تعلیمی اور سیا سی طور پر باشعور ہوں گے وہی اپنے حقوق کو بروقت حاصل کرسکیں گے ۔ آج کے بدل ہوئے پس منظر میں یہ بات بھی سچ ہے کہ کوئی ذریعہ تعلیم کسی کو روزگار کی ضمانت نہیں دیتا بلکہ صلاحیت اور قابلیت کی بنیادپر روزگار ملتاہے ۔ انگریزی‘ہندی‘یا بنگلہ کے کتنے ہی طلبہ معمولی قسم کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں ۔ وہ کبھی اس معنی میں نہیں سوچتے کہ ان کیلئے ذریعہ تعلیم کوئی رکاوٹ بنا ہو ۔ اردو کو جلسہ وجلوس اور شعروغزل اور مشاعروں سے آگے‘ نظم کے علاوہ نثرکے میدان میں اردو زًبان وادب کو بنیادی درس وتدریس کےساتھ‘ اس زبان کو عصری تقاضوں اور سائنس وٹکنالوجی سے آراستہ کرتے ہوئے ترقی وترویج دینے کی ضررورت ہے ۔ اردو ذریعہ تعلیم کے طلبہ کو بھی اگر زمانے کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جائے تو روزگار کا حصول انہیں خواب پریشاں بن کر نہیں ستائے گا ۔ یوپی ایس سی وغیرہ جیسے مسابقتی امتحانات میں اردو مضمون اور اردو میں دیگر مضامین لکھنے کی سہولتیں حاصل ہیں ۔ کئی طلبہ ان جیسے امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے آرہے ہیں ۔ حالات کے اس تناظر میں اردو ذریعہ تعلیم کے طلبہ کے اندر مسابقت کے میدان میں دیگر طلبہ کےساتھ مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کیا جائے ۔ موجودہ دور میں تعلیمی صورتحال اس بات کی دعوت وفکر دیتی ہے کہ اردو کی آنے والی نسلوں کی مستقبل تابناک بنانے کیلئے اردو والے اپنا احتساب کریں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ایک مبسوط لاءحہ عمل طے کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کا آغاز کریں ۔ اردو کی قد آور شخصیت آنند نارائن ملا کا ایک تاریخی جملہ ہم میں حرکت وعمل کا نیا جذبہ پیدا کرسکتا ہے ۔ آزادی وطن کے فوری بعد ایک اردو کانفرنس میں انہوں نے کہاتھا کہ ’’ میں اپنا مذہب چھوڑسکتا ہوں ‘لیکن اپنی مادری زبان نہیں چھوڑسکتا‘‘ ۔ ہم کو اپنا مذہب چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے‘ لیکن اسکے ساتھ اپنی مادری زبان کو اپنی خون جگر دے کر سینچنا ہے ۔ صوبائی حکومتوں کے ماتحت اردواکیڈمیاں جنہیں خود اپنا ایک تعلیمی تحقیقی ایجنڈا تیار کرنی چاہئے اور اپنی ترجیحات کا تعین کرناچاہئے ۔ بلاشبہ اردو ایک نہایت ہی خوبصورت زبان ہے ۔ اسکے باوجود اسکے پھیلاءو کیلئے ضروری ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی اسکی بنیاد بنے ۔ ان اداروں کو محض لسانی اقلیت کے ٹھپہ والی اکیڈمیاں نہیں ہونا چاہئے ۔ ہندو ستان کو ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت ہے اور یہ افرادی قوت اگر ان اکیڈمیوں کی کاوشو ں سے حاصل ہو ‘جو اردو میں تعلیم فراہم کرتی ہے تو اس سے ثقافتی اور لسانی اعتبار سے ترقی یافتہ قوم کی تعمیر میں مددملے گی‘‘ ۔ وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ ملک میں خاص کرمغربی بنگال کے تمام اردو آبادی والے اضلاع میں ریاستی حکومت کی تعاون سے اردوماڈل اسکولس اورپیشہ وارانہ اداروں کووسیع پیمانے پر قائم کیاجائے ۔ جس سے اردوآبادی کو تعلیم سے جوڑنے کا موقع فراہم ہو ۔

تحریر: محمد انجم راہی ‘ اسلام پور، مغربی بنگال

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here