کورونا جیسی خطرناک وبا سے ہمارا ملک مختلف مسائل سے دوچار ہے۔ایک طرف غربت مفلسی بھکمری اور بے روزگاری جیسے مسائل ہمارے سامنے کھڑے ہوئے ہیں،دوسری طرف گرتی ہوئی معاشیات لمحہئ فکر ہے۔ان سب کے علاوہ ملک میں دہشت گردی، قتل و غارت عام ہوتا جا رہا ہے۔ قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ان صورت حال کے درمیان سب بڑا مسئلہ تعلیم اور درد و تدریس کا ہے۔تمام کالجس اور اسکولس بند ہیں۔درجہ اول سے لے کربڑی سے بڑی سبھی کالاسیز کورونا سے متاثر ہیں۔اب مسئلہ یہ اٹھ رہا ہے، اگر کلاسیز نہیں ہوں گی تو پرائیوٹ اسکول یا کالجس اساتذہ کی تنخواہ کیسے دے پائیں گے۔کئی اسکول بند ہونے کے سبب ٹیچروں کو سیلری نہیں مل رہی ہے، نتیجہ یہ ہوا وہ مزدوری یا سبزی بیچنے اور ٹھیلہ لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اس مسلے کا حل تلاش کرنے کے لئے ان اسکولس اور کالجس کے مینیجرس اور پرنسپلس نے ایک نئی ترکیب آن لائن کلاسیز کی نکال لی ہے۔
آن لائن کلاسیز ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس سے اندازہ ہو رہا ہے، آنے والے دنوں میں تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے۔کیوں کہ سرکار کی بھی یہی منشا ہے کم سے کم اساتذہ کی تقری کی جائے، اس سے فائدہ یہ ہوگا،ایک ہی ٹیچر آن لائن ہوکر ایک یونیورسٹی سے منسلک جتنے بھی کالجس ہیں،وہ یونیورسٹی کی ہیڈ آفس سے لیکچر دے دے گا۔اس سے سرکاری یا غیر سرکاری دونوں قسم کے کالجوں کا فائدہ ہوگا۔ہر طالب علم سے کے پاس میسج آ جائے گا،آج اتنے بجے اردو کی کلاس فلاں موضوع پر ہوگی آپ سبھی کا آن لائن ہونا لازمی ہے۔اس طرح بے روزگاری میں اضافہ تو ہوگا ہی اور درس و تدریس کا میعار بھی گرتا چلا جائے گا۔ اساتذہ کلاس میں طلبہ پر جو اثرات قائم کرتے ہیں وہ آن لائن کلاسیز میں قطعی نہیں قائم کر سکتے ہیں۔کلاس میں بچوں کی نفسیات اوران کے محرکات اساتذہ کے سامنے ہوتے ہیں، جس سے پڑھانے والا اندازہ لگا لیتا ہے، کون سا بچہ کس درجہ کی ذہانت رکھتا ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے، اساتذہ جو لیکچر دیتے ہیں کچھ باتیں زبان سے ادا کرتے ہیں اور کچھ باتیں اپنے جسم کے حرکات و سکنات سے بچوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جسے عام زبان میں باڈی لینگویج کہتے ہیں۔کچھ الفاظ کچھ تراکیب یا کچھ ٹرم سبھی مضامین میں ایسے ہوتے ہیں جو زبان کی ادائیگی سے کم اور باڈی لینگویج سے بہتر طریقے سے سمجھایا جا سکتا ہے۔آن لائن کلاسیز میں یہ تاثر قائم کرپانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

یہ تو تھا آن لائن کلاس میں درس و تدریس کا مسئلہ۔دوسرا اہم مسلہ یہ ہے، ہر طالب علم کے والدین دولت مند نہیں ہو تے۔اس میں کچھ امیر ہوتے ہیں کچھ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو تعلیم کا بڑا شوق ہوتا ہے لیکن ان کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی، وہ ہر مہینے آن لائن میں ہونے والے اخراجات اٹھا سکیں۔لاک ڈاؤن جیسے حالات میں لوگوں کے مالی حالات ویسے بھی بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں غریب والدین کے لئے بچوں کو اعلیٰ تعلیم پر ہونے والے خرچ کو برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔غریب انسان اسمارٹ موبائل اور لیپ ٹاپ کا انتظام کرنے سے قاصر ہے۔جن کے پاس تین یا تین سے زائد بچے ہیں ان کے لئے یہ مرحلہ تو اور بھی تشویش ناک ہے۔ایک لاکھ روپیہ وہ کہاں سے لائے گا۔موبائل اور لیپ ٹاپ کے بعد اسے بہترین اسپیڈ دینے والے انٹرنیٹ کنیکشن کی بھی ضرورت پڑے گی۔اس وقت کوئی موبائل کمپنی ایسی نہیں ہے،جو بہترین اسپیڈ دے رہی ہو۔اس صورت حال میں والدین کو مجبوراً وائی فائی ہائی اسپیڈ کنیکشن کا بھی انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔جس کے لئے کچھ نہیں تو پانچ سو سے لے کر ہزار روپیہ ماہانہ خرچ آئے گا۔وہ غریب والدین جو دس یا بارہ ہزار روپیہ مہینہ کماتے ہیں، وہ کیسے بچوں کو پڑھائیں گے کیسے کھلائیں گے۔ہاں اس سے ایک مسئلہ ضرور حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اساتذہ کی تنخواہ نہیں رکے گی۔ آن لائن کلاسیز کے نام پر اسکولس یا کالجس فیس وصولی کر کے ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔
ایک اور مسئلہ ہمارے سامنے موجود ہے۔وہ یہ کہ کچھ ایسے علاقہ بھی ہیں جو تعلیمی اعتبار سے بہت پیچھے ہیں۔خاص طور سے مشرقی اتر پردیش کے دیہاتی علاقوں میں ابھی کوئی اعلیٰ تعلیمی نظام موجود نہیں ہے۔وہاں کے طالب علم ایسے ہیں جو کمپیوٹر چلانا تو دور ان کے گھر میں اسمارٹ موبائل تک نہیں ہے۔اس قدر غریبی اور بے روزگاری ہے، والدین کالج کی ڈھائی ہزار سالانہ فیس بھی کئی قسطوں پر نہیں دے پاتے ہیں۔ایسے طالب علم آن لائن کلاسیز کیسے فالو کریں گے۔
یہ وہ مسائل ہیں جو غریبی اور مفلسی سے پیدا ہو سکتے ہیں۔اب ذرا اسکرین پر آن لائن ہونے سے صحت پر کیا اثرات نمایاہو رہے ہیں ان پر بات کرتے ہیں۔آن لائن کلاسیز کا آغاز ہوئے تقریباً تین چار ماہ ہوئے ہیں۔اس وقت کسی آنکھ کے ڈاکٹر کے وہاں چلے جائیں یا اس سے رابطہ کریں۔وہ بتائے گا، اگر ۰۰۱ مریض آئے ہیں، اس میں سے ۰۶ مریض ایسے ہیں، جو طالب علم تھے اور ان کی آنکھیں آن لائن سکرین کے سبب کمزور ہو رہی ہیں۔ کسی کی آنکھ سے پانی آ رہا ہے، کسی کی آنکھ میں درد ہے، کسی کا سر درد کر رہا ہے، کسی کو چکر آ رہا ہے،ایسے امراض میں زیادہ تر وہ بچے ہیں جو درجہ ایک سے ہائی اسکول تک کے طالب علم ہیں۔آنکھ کے علاوہ دوسرے بھی کئی امراض ہونے کی شکایتیں ابھی سے آنے لگی ہیں۔ان باتوں کا پر غور و خوص کیا جائے، اندازہ ہوگا آنے والے دنوں میں اگر آن لائن کلاسیز کا معمول بنتا گیا تو والدین کو اسکول میں داخلہ لینے سے پہلے بچوں کی عینک بنوانا لازمی ہو جائے گا پھر وہ کاپی کتاب اور ڈریس سے متعلق سوچے گا۔کل ایک بچی سے بات ہوئی وہ بتانے لگی، آن لائن کلاس میں بھی اسکول کا یونیفارم پہننا ضروی ہے۔اب آپ بتائیں کون سی ایسی مجبوری یا مسائل ہیں،جس سے گھر پر بیٹھ کر بھی اسکول کا یونیفارم پہن کر کلاس کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔

مذکورہ بالاتمام نکات پر غور و فکر کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے، آن لائن کلاسیز اس وقت ہمارے سامنے ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔اس پر حکومت کے ساتھ ساتھ اسکول کالج کے مینیجر پرنسپل،اساتذہ کے ساتھ والدین کو بھی سوچنا پڑے گا،کیا اس سے بچوں کی ذہنی نشو و نما ہو سکے گی اور صحت پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس بات پر سب سے زیادہ غور کرنا چاہئے اور سبھی مل جل کوئی ایسا راستہ نکالیں جس سے سبھی طبقہ کے لوگوں کوبآ سانی سے تعلیم مل سکے اور کوئی نقصان بھی نہ اٹھانا پڑے۔اس مرحلے میں اساتذہ کو زیادہ ثابت قدمی کا ثبوت دینا پڑے گا۔ ان کو یہ ثابت کرنا پڑے گا بغیر کلاس کے بچوں کے دو بدو ہم درس و تدریس کے میعار کو بلند نہیں کر سکتے۔اگر وہ اس معاملے میں ذرا بھی لاپرواہ ہوئے تو وہ دن بھی جلد آ جائے گا جب اساتذہ بے روزگار ہوتے چلے جائیں گے۔جہاں دس استاد کی ضرورت تھی اب وہاں ایک ہی ٹیچر سے کام چلا لیا جائے گا۔کئی کالج والے مل کر ایک آدمی کو تنخواہ دے کر اپنا کام نکالیں گے۔

ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے، اس کا کوئی حل تلاش کرنا بے حد ضروی ہے۔حکومت اس مسئلے پر بعد میں کیا ایکشن لے گی یہ قابل غور ہے۔کیا وہ صرف کورونا جیسے مشکل حالات میں آن لائن کلاسیز کرائے گی یا بعد میں اسی کو بنیاد بنا کر تعلیمی نظام میں تبدیلی کرکے کوئی اعلیٰ نظام پیش کرے گی؟

مسعود عالم

نوٹ: مشمولات پر اظہار خیال ضروری نہیں ہے کہ وہ آؤٹ ریچ کے خیالات اور پالیسیوں کی عکاسی کریں۔ دیگر انٹرنیٹ سائٹوں کے لنکس کو اس میں موجود نظریات کی توثیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here